انگریزی انٹرنیشنل زبان نہیں ہے۔

 *انگریزی انٹرنیشنل زبان نہیں، برطانیہ پر ڈنمارک کا قبضہ*

 مَیں ڈنمارک سے اپنے بیوی بچوں سمیت جرمنی کے شہر ڈوزلڈرف رشتہ داروں کو ملنے جارہا تھا۔ جرمنی کی سرحد میں داخل ہوئے تو میرے بڑے بیٹے نے پوچھا کہ ابوجی کیا انگریزی انٹرنیشنل زبان ہے؟ تھوڑی دور جاکے مَیں نے گاڑی ایک طرف کھڑی کی اور بیٹے سے کہا کہ جاؤ اور اس جرمن سے ڈوزلڈرف کا راستہ پوچھو! بیٹے نے جاکر اسے مؤدبانہ لیجے میں آداب عرض کرنے کے بعد راستہ پوچھا تو وہ غصہ سے جواب دئے بغیر آگے چل پڑا۔ بیگم بولیں یہ بچہ ہے شاید اچھی طرح نہ پوچھ سکا ہو؟ مَیں نے کہا تم جاکر اس دوسرے جرمن سے راستے پوچھ لو! میری اہلیہ نے نہایت اچھی، مہذب انگریزی میں اس سے راستہ پوچھا تو وہ بھی غصہ سے آگے بڑھ گیا۔ بیگم آکر مجھے کہنے لگی کہ یہ لوگ کتنے بدتمیز ہیں؟ مَیں نےکہا یہ بدتمیز نہیں بلکہ محب وطن ہیں۔ یہ انگریزی سے نفرت کرتے ہیں اور اپنی زبان سے محبت کرتے ہیں۔ مَیں نے اپنے بچوں کو بتایا کہ اسی طرح برطانیہ کے پڑوسی ملک فرانس میں چلے جائیں وہ آپ سے انگریزی نہیں بولیں گے۔ پورے یورپ میں صرف ایک ملک برطانیہ کی زبان انگریزی ہے۔ باقی سب یورپی ملکوں کی اپنی اپنی زبانیں ہیں اور وہ اپنی زبان سے پیار کرتے ہیں۔ ہندوستان پر چونکہ انگریزوں نے حکومت کی ہے اسلئے اکثر پاکستانی ابھی تک انگریزوں کی ذھنی غلامی اور احساسِ کمتری کا شکار ہیں۔ بعض پاکستانی انگریزی بولنے میں فخر محسوس کرتے ہیں۔ ایک دفعہ حکومت کے ایک اعلٰی عہدیدار سے بات ہوئی تو وہ مجھ سے باربار انگریزی میں بات کررہا تھا۔ مَیں اردو میں بات کرتا رہا۔ آخر میرا ناریل چٹخ گیا۔ مَیں نے انگریزی میں اسے کہا کہ کیا ڈاکٹر نے آپکو نسخہ میں انگریزی بولنے کی ہدایت کی ہے؟ میرے ساتھ انگریزی بولنی ہو تو یہ تھرڈ کلاس انگریزی نہ بولو جسے سن کر انگریز بھی ایک دوسرے سے پوچھیں کہ یہ کیا کہہ رہا ہے، بلکہ فرسٹ کلاس انگریزی بولو۔ وہ فوراََ اپنی اصل اوقات پر آگیا اور اردو بولنے لگ گیا۔ ہم اپنی زبان پر فخر کیوں نہیں کرتے؟ پاکستان میں صرف سامنے والے پر یہ ظاہر کرنے کیلئے ایک آدھ فقرہ ضرور انگریزی کا بولیں گے کہ مَیں پڑھا لکھا ہوں/پڑھی لکھی ہوں۔ حالانکہ تھوڑی سی گفتگو سے ہی پتہ چل جاتا ہے کہ موصوف/موصوفہ کتنے پانی میں ہیں؟ اسی طرح مجھے ایک لفظ "سر" سے بھی بے حد چِڑ ہے۔ یہ لفظ صرف برطانیہ میں بولاجاتا ہے۔ یہ اتنا "معزز" لفظ ہے کہ برطانیہ کے ہم جنس پرست گلوکار ایلٹن جان کو "سر" کے خطاب سے نوازا گیا۔ ڈنمارک نے وائیکنگ کے زمانہ میں برطانیہ پر حملہ کیا۔ وہاں ڈنمارک والوں (ڈینز) کا اتنا خون بہا کہ اس خون کی کھاد پر درخت اگ آئے۔ جنہیں Dane's blood یعنی ڈینشوں کا خون کہا جاتا ہے۔ ایسے درخت مَیں نے صرف لالہ موسٰی کے قریب چیلیانوالہ کے اردگرد دیکھے ہیں یا ہندوستان میں پانی پت کے علاقے میں دیکھے ہیں۔ جو لڑائیوں کی وجہ سے خون کی کھاد پر اگے تھے۔ بہرحال ڈنمارک نے برطانیہ پر قبضے کرلیا اور حکومت کرنے لگا۔ انگریز اپنے جس بادشاہ کو فخر سے کینوٹ دا گریٹ Canute the Great کہتے ہیں۔ وہ انگریز نہیں بلکہ ڈین (ڈنمارک کا باشندہ) تھا اور اس کا نام Canute نہیں تھا بلکہ Knude تھا۔ اسی لئے ڈنمارک کے رہنے والوں میں احساسِ تفاخر پایا جاتا ہے۔ یہ انگریزوں کو کچھ نہیں سمجھتے۔ ڈنمارک نے سویڈن ناروے وغیرہ پر بھی حکومت کی۔ ہندوستان کے ایک علاقے ٹھینگے بار پر بھی ڈنمارک کی عملداری رہی۔ اب گرین لینڈ، فیروآئی لینڈ پر ڈنمارک کی عملداری ہے۔ مَیں کینیڈا گیا تو یہ جان کر حیران ہوا کہ ڈنمارک کا کنیڈا سے بھی سرحدی جھگڑا ہے۔ ڈنمارک کی بادشاہت دنیا کی سب سے قدیم تسلسل والی بادشاہت ہے۔ یہاں سوفیصد پڑھے لکھے لوگ ہیں۔ بیروگاروں، تعلیم اور صحت کا سارا خرچہ حکومت اٹھاتی ہے۔ ڈنمارک ایک فلاحی ریاست ہے اور انکے عیسائی ہونے کے باوجود یہاں اسلامی قوانین کی عملی جھلک نظر آتی ہے۔ یہ ایسے ہی ہے جیسا کہ مصر کی قدیمی درسگاہ "الازھر" یونیورسٹی کے وائس چانسلر فرانس دورہ پر گئے۔ جب مصر واپس آئے تو ائر پورٹ پر دورانِ انٹرویو پوچھا گیا کہ آپ یورپ جاکر کیا محسوس کررہے ہیں؟ فرمانے لگے کہ مَیں ایک ایسے ملک (فرانس) کے مسلمانوں سے مل کر آیا ہوں جو کلمہ نہیں پڑھتے اور واپس ایسے کافر ملک (مصر) کے کافر باشندوں میں واپس آگیا ہوں جو کلمہ پڑھتے ہیں۔ یہ بات ہم سب مسلمانوں کیلئے لمحۂ فکریہ ہَے۔ ہم صرف کلمہ ہی پڑھتے ہیں۔ باقی ہمارے کونسے اعمال مسلمانوں والے ہیں؟ ہم صحیح مسلمان ہوتے تو یوں محکوم نہ ہوتے! یورپ جنت نظیر خطہ ہے۔ اہلِ یورپ صرف کلمہ پڑھ لیں تو یہ علاقہ صحیح معنوں میں جنت کا نمونہ بن سکتا ہے۔ 


افرنگ یا یورپ کے بارے میں علامہ اقبال(رح) نے اللہ سے مخاطب ہوکر فرمایا تھا کہ


فردوس جو ترا ہے وہ کسی نے نہیں دیکھا

افرنگ کا ہر قریہ ہے فردوس کی مانند


اور پاکستان کے مشہور شاعر ضمیر جعفری ڈنمارک تشریف لائے تو فی البدیہہ یہ شعر کہے:


ملاوٹ ہوا میں نہیں، غذا میں نہیں، دوا میں نہیں

یہ اسلئے ہے کہ ڈنمارک ایشیا میں نہیں


ڈنمارک میں پہاڑ نہیں، دریا نہیں۔ یہاں کسی قسم کی کوئی معدنیات نہیں پائی جاتی۔ پھر پھی یہاں کے باشندوں نے مسلسل محنت اور دیانتداری سے ڈنمارک کو دنیا کا خوشحال ترین ملک بنادیا ہے۔ میرے پیارے ملک پاکستان کو اللہ نے ہر قسم کی نعمت سے نوازا ہے۔ مَیں یہ سننے کیلئے ترستارہتا ہوں کہ پاکستان کے عوام اور حکمران کب نیک نیت ہونگے اور ملک میں کب خوشحالی آئیگی؟ یااللہ! میرے پیارے پاکستان پر رحم فرما اور اسے ایک خوشحال ملک بنا۔ آمین !

اسلم علی پوری

نقل و ترسیل فاطمہ قمر پاکستان قومی زبان تحریک

Comments